قراءت میں بھولنے پر امام کو لقمہ دینا F10-12-03 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Sunday, February 2, 2020

قراءت میں بھولنے پر امام کو لقمہ دینا F10-12-03


قراءت میں بھولنے پر امام کو لقمہ دینا

O فرض یا نفل نماز میں قراءت کے وقت بھولنے پر امام کو لقمہ دینے کی کیا دلیل ہے؟ قرآن و حدیث سے وضاحت کریں۔
P دوران نماز اگر امام کو قراءت میں بھولنے پر لقمہ دے دیا جائے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی بلکہ ایسا کرنا جائز ہے جیسا کہ حضرت  مغیرہt  سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہe ایک دفعہ نماز میں قراءت فرما رہے تھے‘ آپﷺ نے ایک آیت کو چھوڑ دیا‘ ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے دوران قراءت ایک آیت چھوڑ دی تھی تو آپﷺ نے فرمایا: ’’تم نے وہ آیت مجھے یاد کیوں نہ کرائی۔‘‘ یعنی نماز میں بتایا کیوں نہیں۔ (بیہقی ص ۲۱۱ ج ۳)
اسی طرح حضرت ابن عمرt سے مروی ہے کہ رسول اللہe نے نماز پڑھائی تو آپ پر قراءت خلط ملط ہو گئی‘ جب آپﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت ابی﷜ سے فرمایا:
’’کیا تو نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’پھر تمہیں کس بات نے غلطی بتانے سے روکے رکھا؟‘‘ (ابوداؤد، الصلوٰۃ: ۹۰۷)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نماز پڑھتے ہوئے اگر امام بھول جائے تو اسے لقمہ دیا جا سکتا ہے چنانچہ حضرت انسt فرماتے ہیں کہ ہم عہد رسالت میں اپنے امام کو لقمہ دیا کرتے تھے اور اسے حرج خیال نہیں کیا جاتا تھا۔ (مستدرک حاکم ص ۲۷۶ ج ۱)
اس سلسلہ میں ایک روایت پیش کی جاتی ہے کہ رسول اللہe نے حضرت علیt سے فرمایا تھا کہ نماز میں امام کو لقمہ نہ دیا کرو۔ (ابوداؤد، الصلوٰۃ: ۹۰۸)
لیکن یہ حدیث ضعیف ہے، اسے دوران نماز لقمہ نہ دینے کے بارے میں بطور دلیل پیش نہیں کیا جا سکتا۔ (واللہ اعلم)


No comments:

Post a Comment

Pages