دورانِ تشہد بے وضوء ہو جانا F10-12-01 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Sunday, February 2, 2020

دورانِ تشہد بے وضوء ہو جانا F10-12-01


دورانِ تشہد بے وضوء ہو جانا

O ایک آدمی تشہد میں بیٹھتا ہے، اس نے التحیات‘ درود اور دعائیں وغیرہ پڑھ لی ہیں، لیکن سلام پھیرنے سے پہلے وہ بے وضو ہو گیا تو کیا اس کی نماز باطل ہے یا مکمل ہو جائے گی؟
P جب مسلمان نماز میں داخل ہوتا ہے تو تکبیر تحریمہ ’’اللہ اکبر‘‘ کہتا ہے‘ اس کے بعد نماز کے منافی حرکت کرنا منع ہو جاتا ہے اور کوئی بھی بات چیت کرنا حرام ہو جاتا ہے‘ پھر سلام سے ہی یہ پابندی ختم ہوتی ہے جیسا کہ حضرت علی﷜ سے روایت ہے:
’’نماز کے منافی حرکات کو حرام کرنے والی تکبیر تحریمہ ہے اور اس قسم کی پابندی کو ختم کرنا سلام پھیرنا ہے۔‘‘ (ابوداؤد، الصلوٰۃ: ۶۱۸)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ نماز کو صرف سلام کے ساتھ ہی ختم کیا جا سکتا ہے‘ رسول اللہe کا یہی معمول عمر بھر رہا جیسا کہ ایک حدیث میں صراحت ہے: ’’رسول اللہ e سلام کے ساتھ نماز ختم کرتے تھے۔‘‘ (صحیح مسلم‘ الصلوٰۃ: ۴۹۸)
جمہور اہل علم کا یہی موقف ہے کہ نماز کو سلام کے ساتھ ہی ختم کیا جا سکتا ہے لیکن احناف کا موقف ہے کہ نماز سے فراغت کیلئے سلام پھیرنا ضروری نہیں بلکہ نماز کے منافی کوئی بھی کام کرنے سے نماز کو ختم کیا جا سکتا ہے لیکن یہ موقف صحیح احادیث کے خلاف ہے، صورت مسئولہ میں اگر کسی نے التحیات، درود اور ادعیہ مسنونہ پڑھ لی ہیں لیکن سلام پھیرنے سے قبل وہ بے وضو ہو گیا ہے تو اس کی نماز باطل ہے خواہ وہ نماز فرض ہو یا نفل، بہرحال نماز کی تکمیل سلام پھیرنے سے ہوگی، اس کے بغیر نماز ادھوری ہے۔ (واللہ اعلم)


No comments:

Post a Comment

Pages