حق مہر طے کیا مگر ادا نہیں کیا F10-11-05 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Sunday, February 2, 2020

حق مہر طے کیا مگر ادا نہیں کیا F10-11-05


حق مہر طے کیا مگر ادا نہیں کیا

O ایک آدمی کسی عورت سے نکاح کرتا ہے اور حق مہر بھی طے ہو جاتا ہے لیکن وہ کسی وجہ سے اس کی ادائیگی نہیں کر پاتا بلکہ وہ اسے مؤخر کر دیتا ہے تو کیا اس صورت میں وہ اپنی بیوی کے پاس جا سکتا ہے؟
Pطے شدہ حق مہر کی ادائیگی ضروری ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’تم عورتوں کو ان کے حق مہر بخوشی ادا کرو، ہاں اگر وہ خوشی سے اس میں سے کچھ تمہیں چھوڑ دیں تو تم اسے مزے سے کھا سکتے ہو۔‘‘ (النساء: ۴)
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ طے شدہ حق مہر کی ادائیگی ضروری ہے، اگر باہمی رضا مندی سے حق مہر مؤخر کرنے پر کوئی سمجھوتہ ہو جاتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
’’اگر حق مہر طے ہو جانے کے بعد بیوی خاوند آپس میں کوئی سمجھوتہ کر لیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔‘‘ (النساء: ۲۱)
لیکن بیوی کے پاس جانے سے پہلے پہلے اس کی ادائیگی کرنا یا مباشرت سے پہلے ادائیگی کو مشروط کرنا درست نہیں۔ اگرچہ بہتر ہے کہ اس کی ادائیگی جلد از جلد ہونی چاہیے اور خاوند کا دانستہ طور پر اس کی ادائیگی سے پہلو تہی کرنا بھی ناجائز ہے۔ (واللہ اعلم)


No comments:

Post a Comment

Pages