پہلی بیوی سے رجوع کی شرط نئی شادی F10-11-03 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Sunday, February 2, 2020

پہلی بیوی سے رجوع کی شرط نئی شادی F10-11-03


پہلی بیوی سے رجوع کی شرط نئی شادی

O میرے بیٹے نے میری اجازت کے بغیر اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے‘ اور وہ کسی صورت میں اسے آباد کرنے پر آمادہ نہیں ہے میں نے اس کو رجوع کرنے پر آمادہ کیا ہے لیکن وہ کہتا ہے کہ میں اس شرط پر رجوع کرتا ہوں کہ میں اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھوں گا بلکہ وہ نئی شادی کرنا چاہتا ہے، اب کتاب و سنت کے مطابق میرے لئے کیا حکم ہے؟
P کتاب وسنت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے طلاق دینے کا حق خاوند کو دیا ہے، اس کیلئے ضروری نہیں کہ وہ طلاق دینے کیلئے اپنے باپ سے اجازت لے، مشورہ کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن طلاق کو باپ کی اجازت سے مشروط کرنا صحیح نہیں ہے جب اس نے طلاق دے دی ہے تو طلاق نافذ ہو جائے گی، اگر وہ اسے دوبارہ آباد کرنے پر آمادہ ہے تو رجوع کرنے کا اسے حق ہے لیکن یہ کسی صورت میں جائز نہیں ہے کہ وہ رجوع کرنے کے بعد اپنی بیوی سے لا تعلق رہے کیونکہ یہ بیوی کو تکلیف دینا ہے اور شریعت کی رو سے ایسا کرنا حرام ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اور انہیں تکلیف دینے کیلئے مت روکے رکھو، تا کہ تم ان پر زیادتی کرو اور جو شخص ایسا کام کرے گا وہ اپنے آپ پر ہی ظلم کرے گا۔‘‘ (البقرہ: ۲۳۱)
بلکہ قرآن کریم نے بیوی کے ساتھ حسن معاشرت کا حکم دیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور ان بیویوں کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔‘‘ (النساء: ۱۹)
صورت مسئولہ میں اگر بیٹا رجوع کرنے پر آمادہ نہیں ہے تو اس پر کسی قسم کا دبائو نہ ڈالا جائے، اگر وہ لاتعلق رہتے ہوئے رجوع پر آمادہ ہے تو اس قسم کا رجوع شرعاً ناجائز ہے بہتر ہے کہ اس کی ذہن سازی کی جائے اور جن وجوہات کی بناء پر اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے، اس کی تلافی کرتے ہوئے میاں بیوی کے درمیان صلح کی کوشش کی جائے لیکن باپ ہونے کی حیثیت سے اس پر کسی قسم کا ناجائز دبائو ڈالنا جائز نہیں، اگر اس کی بیوی، باپ کی کوئی عزیزہ ہے تو رشتہ داری کے حقوق اپنی جگہ پر قابل احترام ہیں لیکن اس کیلئے خاوند کے حقوق کو قربان نہ کیا جائے گا، ہمارے معاشرہ میں یہ امر قابل اصلاح ہے کہ باپ اپنی اولاد کی شادی کرتے وقت انہیں اعتماد میں نہیں لیتا پھر شادی کرنے کے بعد بھی مداخلت کی جاتی ہے، اس کی مداخلت سے بہت بگاڑ پیدا ہوتا ہے لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے رویہ پر نظرثانی کریں اور شادی نکاح سے پہلے اپنے بچوں اور بچیوں کو اعتماد میں لیں تا کہ آئندہ ہونے والے بگاڑ کا سدباب ہو سکے۔ (واللہ اعلم)


No comments:

Post a Comment

Pages