ورثاء کے حق میں وصیت F10-11-01 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Sunday, February 2, 2020

ورثاء کے حق میں وصیت F10-11-01


ورثاء کے حق میں وصیت

O ایک آدمی کے تین وارث زندہ ہیں، بیوی، بیٹی اور پوتا۔ اس نے ان کے حق میں وصیت نامہ لکھا ہے کہ میری کل جائیداد سے 33% بیوی کو، 33%بیٹی کو اور 44% پوتے کو دے دیا جائے، کیا یہ وصیت جائز ہے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں وضاحت کریں۔
P کسی انسان کو ورثاء کی موجودگی میں اپنے سارے مال کی وصیت کرنا جائز نہیں ہے، مال کی تقسیم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ضابطہ میراث نازل فرمایا ہے، مرنے کے بعد اس ضابطہ میراث کے مطابق اس کا مال تقسیم ہوگا، رسول اللہe کا ارشاد ہے:
’’اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ صدقہ کیا ہے کہ تم اپنے مال سے ایک تہائی کی وصیت کر سکتے ہو تا کہ تمہاری نیکیوں میں اضافہ کا باعث ہو نیز تمہارے نیک اعمال زیادہ ہونے کا باعث ہو۔ (ابن ماجہ، الوصایا: ۲۷۰۹)
اس حدیث کے پیش نظر انسان اپنے مال سے زیادہ سے زیادہ تیسرے حصہ تک وصیت کر سکتا ہے لیکن وہ وصیت بھی کسی غیر وارث کیلئے ہو۔ اس سلسلہ میں رسول اللہe کا واضح ارشاد ہے کہ
’’اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے اب کسی وارث کیلئے کوئی وصیت جائز نہیں۔‘‘ (ترمذی، الوصایا: ۲۱۲۱)
صورت مسئولہ میں دو غیر شرعی چیزیں ہیں: ایک تو اپنے تمام مال کی وصیت کی ہے جو کسی صورت میں جائز نہیں ہے۔ دوسرے شرعی ورثاء کو وصیت کی گئی ہے جو مندرجہ بالا حدیث کی خلاف ورزی ہے۔ ان دو غیر شرعی باتوں کی وجہ سے یہ وصیت کالعدم ہو گئی، اس کی اصلاح ضروری ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو وہ اگر وارثوں کے درمیان صلح کر دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔‘‘ (البقرہ: ۱۸۰)
چونکہ اس وصیت میں اپنے ورثاء کے متعلق طرفداری اور حق تلفی کی گئی ہے لہٰذا اس کی اصلاح ضروری ہے، اس کی اصلاح یہ ہے کہ اسے کالعدم قرار دیا جائے اور مرنے کے بعد درج ذیل شرح کے مطابق اس کی جائیداد تقسیم ہو گی۔
\       اولاد کی موجودگی میں اس کی بیوی کو کل جائیداد سے آٹھواں حصہ دیا جائے گا۔
\       اس کی بیٹی چونکہ ایک ہے اس لئے وہ اس کی جائیداد سے نصف کی حقدار ہوگی۔
\       پوتا عصبہ ہے لہٰذا ورثاء سے جو مال بچے گا وہ پوتے کو مل جائے گا۔
سہولت کے پیش نظر اس کی جائیداد کے کل چوبیس حصے ہوں گے، ان میں سے آٹھواں یعنی تین حصے بیوی کو، آدھا یعنی بارہ حصے بیٹی کو اور باقی نو حصے پوتے کو مل جائیں گے۔ یہ تقسیم اس صورت میں ہو گی جب صاحب جائیداد کی وفات کے وقت اس کے مذکورہ بالا ورثاء زندہ ہوں، اگر کوئی رشتہ دار اس کی زندگی میں فوت ہو گیا تو وہ خود بخود اس کی جائیداد سے محروم ہو جائے گا۔ (واللہ اعلم)


No comments:

Post a Comment

Pages