تدفین کے بعد قبر پر اجتماعی دعاء F10-08-02 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Friday, January 31, 2020

تدفین کے بعد قبر پر اجتماعی دعاء F10-08-02


تدفین کے بعد قبر پر اجتماعی دعاء

O تدفین سے فراغت کے بعد قبر پر کھڑے ہو کر میت کیلئے اجتماعی دعا کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
P میت کو قبر میں دفن کرنے کے بعد قبر پر کھڑے ہو کر دعا کرنا رسول اللہe سے قولاً و عملاً دونوں طرح سے ثابت ہے، چنانچہ حضرت عثمانt فرماتے ہیں کہ رسول اللہe جب میت کو دفن کر کے فارغ ہوتے تو کھڑے ہوتے اور فرماتے:
’’اپنے بھائی کیلئے استغفار کرو پھر اس کیلئے ثابت قدمی کی دعا کرو کیونکہ اس سے اب باز پرس ہو رہی ہے۔‘‘ (ابوداؤد، الجنائز: ۳۲۲۱)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ میت کو جب قبر میں دفن کر دیا جاتا ہے تو سوال و جواب کرنے کیلئے فرشتے وہاں آجاتے ہیں اور میت سے سوال و جواب کرتے ہیں، اس بناء پر رسول اللہe نے تلقین کی ہے کہ اس کیلئے اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا کی جائے اور اللہ سے ثابت قدم رہنے کی بھی التجاء کی جائے، اس کے علاوہ فتح الباری میں صحیح ابن عوانہ کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن مسعودt سے مروی ایک حدیث بیان کی گئی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہe کو حضرت عبداللہ بن ذی الجنادین رضی اللہ عنہ کی قبر پر دیکھا، جب آپ اسے دفن کرنے سے فارغ ہوئے تو قبلہ کی طرف منہ کیا، دونوں ہاتھ اٹھائے (اور دعا کی) ۔ (فتح الباری ص ۱۷۲ ج ۱۱)
اس حدیث سے رسول اللہe کا عمل معلوم ہوا کہ آپe جب حضرت عبداللہ بن ذی الجنادینt کی تدفین سے فارغ ہوئے تو ان کیلئے قبلہ رو ہو کر دعا کی اور اپنے ہاتھ بھی اٹھائے، قبلہ رو ہو کر کھڑے ہو کر دعا کرنا بہتر ہے لیکن یہ دعا کیلئے شرط نہیں ہے، ویسے جس طرف بھی منہ کر کے دعا کر لی جائے جائز ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’تم جدھر بھی منہ کرو ادھر ہی اللہ کا چہرہ ہے۔‘‘ (البقرہ: ۱۱۵)
بہرحال دفن کے بعد میت کیلئے قبر پر کھڑے ہو کر دعا کرنا رسول اللہe سے قولاً و عملاً دونوں طرح ثابت ہے، اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔ (واللہ اعلم)

No comments:

Post a Comment

Pages