والدین کی رضا مندی کے بغیر نکاح F10-05-05 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Friday, January 31, 2020

والدین کی رضا مندی کے بغیر نکاح F10-05-05


والدین کی رضا مندی کے بغیر نکاح

O نکاح کیلئے لڑکا اور لڑکی رضا مند ہیں، لیکن والدین اس میں رکاوٹ ہیں، لڑکی گھر سے بھاگ کر لڑکے سے نکاح کر لیتی ہے، اس کے بعد والدین بھی راضی ہو جاتے ہیں، تو کیا یہ شادی صحیح ہے؟
P یہ نکاح صحیح نہیں ہے اگرچہ اس کے بعد والدین راضی ہو جائیں، کیونکہ نکاح کیلئے ولی یعنی سرپرست کی اجازت ضروری ہے، جو عورت اپنے سرپرست کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیتی ہے حدیث میں اس کے متعلق سخت وعید آئی ہے، رسول اللہe نے ایسی عورت کو زانیہ اور بدکار کہا ہے، حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’کوئی عورت کسی عورت کا نکاح نہ کرے اور نہ ہی کوئی عورت خود اپنا نکاح کرے، بلاشبہ وہ عورت زانیہ ہے جس نے اپنا نکاح خود کر لیا۔‘‘ (ابن ماجہ، النکاح: ۱۵۲۷)
اگر اس کے والدین، اس نکاح کو قبول کر لیتے ہیں اور اس کے متعلق اپنی رضا مندی کا اظہار کرتے ہیں تو بھی نکاح دوبارہ کیا جائے گا کیونکہ پہلا عقدِ نکاح صحیح نہیں تھا، ان دونوں لڑکی اور لڑکے کو اللہ تعالیٰ سے اس غیر شرعی اقدام پر معافی مانگنا ہو گی اور فوراً علیحدگی اختیار کر کے دوبارہ سرپرست کی اجازت سے نکاح کیا جائے، پہلے نکاح کو شریعت تسلیم نہیں کرتی اگرچہ والدین نے اس پر اظہار رضا مندی کر دیا ہو۔ (واللہ اعلم)

No comments:

Post a Comment

Pages