طلاق کے بعد مرد وعورت کا اکٹھے رہنا F10-05-04 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Friday, January 31, 2020

طلاق کے بعد مرد وعورت کا اکٹھے رہنا F10-05-04


طلاق کے بعد مرد وعورت کا اکٹھے رہنا

O میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے، بچوں کی وجہ سے ہم ایک ہی جگہ پر رہتے ہیں لیکن گفتگو وغیرہ سے اجتناب کرتے ہیں، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
P عورت، خاوند کی طلاق کے بعد جب اپنی عدت پوری کر لے تو وہ اس کیلئے اجنبی بن جاتی ہے، اس کے بعد دونوں کا اکٹھے رہنا فحاشی اور بے حیائی کو دعوت دینا ہے، کسی اجنبی عورت کے ساتھ اس طرح رہنا کسی مذہب میں بھی جائز نہیں چہ جائیکہ اسلام میں رہتے ہوئے ایسا کام کیا جائے، جو انسان اپنی اصلاح چاہتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے بچوں کی خاطر خود کو اس فتنۂ اختلاط میں مبتلا نہ کرے، طلاق دینے کے بعد، اس کی عدت گذرتے ہی دونوں ایک دوسرے کیلئے اجنبی ہو چکے ہیں اور اجنبی کو دیکھنا اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’مومن مردوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کیلئے زیادہ پاکیزہ ہے، یقینا اللہ تعالیٰ جو کچھ وہ کرتے ہیں اس سے باخبر ہے۔‘‘ (النور: ۳۱)
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان خواتین کو بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے، اس بناء پر طلاق یافتہ بیوی کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور اپنے سابقہ خاوند سے علیحدگی اختیار کرے، اللہ تعالیٰ اس کیلئے کوئی راستہ پیدا فرمائے گا جس سے وہ اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کے ساتھ زندگی گذار سکے۔ (واللہ اعلم)

No comments:

Post a Comment

Pages