نکاح سے پہلے طلاق کی حیثیت F10-05-03 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Friday, January 31, 2020

نکاح سے پہلے طلاق کی حیثیت F10-05-03


نکاح سے پہلے طلاق کی حیثیت

O میری اپنے حقیقی چچا کی بیٹی سے منگنی ہوئی ہے لیکن میں جہالت کی وجہ سے متعدد مرتبہ اسے نکاح سے پہلے ہی طلاق دے بیٹھا ہوں، اب میرا ارادہ اس سے نکاح کرنے کا ہے، میرے لئے شرعی حکم کیا ہے، قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔
P ہم میں کچھ لوگ اندھیرے میں تیر چلاتے ہیں، قبل از نکاح طلاق دینا بھی اسی قبیل سے ہے، عقد نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہوتی کیونکہ طلاق دینا شوہر کا اختیار ہے، اور جو ابھی ’’شوہر‘‘ نہیں بنا اسے طلاق دینے کا کوئی اختیار نہیں، وہ لڑکی جس سے منگنی ہوئی ہے وہ اس کی بیوی نہیں ہے، ایسے حالات میں دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے: ’’طلاق، صرف نکاح کے بعد ہی ہوتی ہے۔‘‘ (ابن ماجہ، الطلاق: ۲۰۴۸)
بہرحال قبل از نکاح طلاق واقع نہیں ہوتی، اگر کسی نے یہ حماقت کر ڈالی ہے تو اللہ تعالیٰ سے اس اقدام پر استغفار کرے۔
ایسی طلاق سے آئندہ ہونے والے نکاح پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ (واللہ اعلم)


No comments:

Post a Comment

Pages