بچی کی پیدائش پر عورت کو طلاق F10-05-02 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Friday, January 31, 2020

بچی کی پیدائش پر عورت کو طلاق F10-05-02


بچی کی پیدائش پر عورت کو طلاق

O ہمارے معاشرہ میں بچی کی پیدائش کو اچھا خیال نہیں کیا جاتا بلکہ بعض دفعہ عورت کو بچیاں جنم دینے کی سزا میں طلاق دے دی جاتی ہے، ہماری اس سلسلہ میں راہنمائی کریں۔
P بچی یا بچے کی پیدائش میں انسان بے بس ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ کے لئے ہے، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹیوں سے نوازتا ہے اور جسے چاہے بیٹے اور بیٹیاں دونوں عطا کر دیتا ہے اور جسے چاہے بانجھ کر دیتا ہے۔ (الشوریٰ: ۴۹-۵۰)
ہمارے معاشرہ میں بچی کی پیدائش پر اظہار ناپسندیدگی جاہلیت کا فعل ہے، اسلام نے اس کی حوصلہ شکنی کی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’ان میں سے جب کسی کو لڑکی پیدا ہونے کی خبر دی جائے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور دل میں گھٹنے لگتا ہے، اس ’’بری‘‘ خبر کی وجہ سے لوگوں میں چھپنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ سوچتا ہے کہ اس ذلت کو برداشت کئے رکھے یا اسے مٹی میں دبا دے، یہ لوگ کیا ہی بڑے فیصلے کرتے ہیں۔‘‘ (النحل: ۵۸-۵۹)
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بچی کی پیدائش پر غمگین اور پریشان ہونا ایک مسلمان کا کام نہیں بلکہ دور جاہلیت کا فعل ہے، جسے اسلام پسند نہیں کرتا بلکہ رسول اللہe نے بچیوں کو اللہ کی رحمت قرار دیا ہے، ان کی اچھی پرورش اور تربیت کے نتیجہ میں جنت کی بشارت دی ہے جیسا کہ حضرت عائشہr کا بیان ہے کہ ایک عورت اپنی ’’بچیوں کو ساتھ لئے مجھ سے کچھ مانگنے کیلئے آئی، میرے پاس اس وقت صرف ایک کھجور تھی، میں نے وہی اسے دے دی، اس نے کھجور کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اپنی بچیوں کو دے دی اور خود نہ کھائی، اس کے بعد وہ اٹھ کر چلے گئی، جب رسول اللہe تشریف لائے تو میں نے آپe کو یہ واقعہ سنایا، آپe نے فرمایا: جس نے ان بچیوں کی وجہ سے خود کو کسی آزمائش میں ڈالا تو وہ اس کیلئے دوزخ سے آڑ بن جائیں گی۔ (صحیح بخاری، الزکوٰۃ: ۱۴۱۸)
حضرت ابوسعید خدریt سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہe نے فرمایا:
’’جس آدمی کی تین بیٹیاں یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں، وہ ان کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتا رہے اور ان سے اچھا سلوک کرے تو اللہ تعالیٰ اس آدمی کو جنت میں داخل کرے گا۔‘‘ (مسند امام احمد ص ۴۲ ج ۳)
ایک حدیث میں رسول اللہe نے بڑے عجیب انداز میں اس عمل کی فضیلت بیان فرمائی:
’’جس شخص نے دو بیٹیوں کی پرورش کی تا آنکہ وہ بالغ ہو گئیں تو وہ شخص اور میں قیامت کے دن اس طرح آئیں گے، پھر آپe نے سمجھانے کیلئے دونوں انگلیوں کو ملا لیا۔‘‘ (مسند امام احمد ص ۱۷۴ ج ۳)
بہرحال بچیوں کی پیدائش پر ناراض ہونا، بیوی کو برا بھلا کہنا یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے فیصلہ سے خفا ہونا ہے، یہ انداز ایک مسلمان کے شایان شان نہیں ہے۔ (واللہ اعلم)

No comments:

Post a Comment

Pages