نومولود کو دی جانے والی گھٹی کی شرعی حیثیت F10-05-01 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Friday, January 31, 2020

نومولود کو دی جانے والی گھٹی کی شرعی حیثیت F10-05-01


نو مولود کو گھٹی کی شرعی حیثیت

O ہمارے ہاں نومولود کو گھٹی دی جاتی ہے، اس کا کیا مقصد ہوتا ہے اور کیا طریق کار ہے، کیا یہ ضروری ہے کہ کسی نیک سیرت انسان سے گھٹی دلوائی جائے، کتاب و سنت کی روشنی میں وضاحت کریں؟
P گھٹی کی تعریف یہ ہے کہ کوئی نیک سیرت آدمی کھجور یا اس جیسی کوئی میٹھی چیز چبائے، جب وہ باریک ہو جائے تو بچے کا منہ کھول کر اس کے حلق سے چپکا دی جائے تا کہ وہ اس کے پیٹ میں پہنچ جائے۔ یہ عمل مسنون اور مستحب ہے، مدنی زندگی میں صحابہ کرام] اس کا بایں طور اہتمام کرتے تھے کہ ان کے ہاں جب بھی بچہ پیدا ہوتا تو اسے رسول اللہe کی خدمت میں لاتے اور آپe سے گھٹی دلواتے، تا کہ آئندہ اس نومولود میں اس نیک سیرت انسان کی جھلک نظر آ سکے، جیسا کہ درج ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے:
1       حضرت ابوموسیٰ اشعریt بیان کرتے ہیں کہ میرے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو میں اسے لے کر رسول اللہe کی خدمت میں حاضر ہوا، رسول اللہe نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور کھجور کو اپنے منہ میں چبا کر نرم کیا پھر اسے نومولود کے منہ میں رکھا اور اس کیلئے خیر و برکت کی دعا کی۔ (صحیح بخاری، العقیقہ : ۵۴۶۷)
2       جب عبداللہ بن زبیرt کی ولادت ہوئی تو حضرت اسماء بنت ابی بکرr نے انہیں لا کر رسول اللہe کی گود میں رکھ دیا، رسول اللہe نے کھجور منگوائی پھر اسے چبایا اور اسے نومولود کے منہ میں رکھ دیا۔ چنانچہ پہلی چیز جو بچے کے پیٹ میں گئی وہ رسول اللہe کا لعاب مبارک تھا پھر آپe نے اس کیلئے خیر و برکت کی دعا فرمائی۔ (صحیح بخاری، العقیقہ: ۵۴۶۹)
3       حضرت ابو طلحہt کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو حضرت ام سلیمr نے اسے رسول اللہe کی خدمت میں بھیجا اور ساتھ کھجوریں بھی تھیں، رسول اللہe نے کھجور کو منہ میں رکھ کر چبایا پھر انہیں اپنے منہ سے نکال کر بچے کے منہ میں رکھ دیا اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔
امام بخاریa نے ان احادیث سے گھٹی کے عمل کو ثابت کیا ہے، وہ یہ ہے کہ کھجور یا کوئی بھی میٹھی چیز چبا کر نرم کر کے نومولود کے منہ میں ڈالنا ہے، اس کا مقصد ایمان کی نیک فال لینا ہے کیونکہ کھجور کے درخت کو مومن سے تشبیہ دی گئی ہے پھر میٹھی چیز کو رسول اللہe پسند بھی کرتے تھے، لہٰذا اس عمل سے حلاوت ایمان کیلئے نیک فال لینا ہے، خصوصاً جب گھٹی دینے والا نیک سیرت اور اچھی شہرت کا حامل ہو۔ بازار سے ’’ہمدرد گھٹی‘‘ بھی دستیاب ہے، لوگ اس سے گھٹی کا کام نکال لیتے ہیں لیکن یہ تو پیٹ کی صفائی کیلئے ہوتی ہے، اس سے مسنون گھٹی کا کام نہیں لیا جا سکتا، ہاں اگر کوئی نیک آدمی اسے اپنے منہ میں ڈال کر پھر نومودلو کے منہ میں ڈالے تو صحیح ہے، بہرحال گھٹی کیلئے دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔
1 کھجور یا کوئی بھی میٹھی چیز شہد وغیرہ، 2کسی بزرگ کا انتخاب، وہ بزرگ اس میٹھی چیز کو پہلے اپنے منہ میں رکھے پھر اسے نومولود کے منہ میں ڈالے اور اس کیلئے خیر و برکت کی دعا کرے، امت کے اہل علم کا اس امر پر اتفاق ہے کہ بچے کی ولادت کے موقع پر کھجور کے ساتھ گھٹی دینا مستحب عمل ہے اگر کھجور نہ مل سکے تو کسی بھی میٹھی چیز سے یہ عمل کیا جا سکتا ہے لیکن یہ کام کسی نیک سیرت، بزرگ انسان سے کرایا جائے۔

No comments:

Post a Comment

Pages