عورت کی طرف سے تنسیخ نکاح پر حق مہر کی واپسی F10-04-04 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Thursday, January 30, 2020

عورت کی طرف سے تنسیخ نکاح پر حق مہر کی واپسی F10-04-04


عورت کی طرف سے تنسیخ نکاح پر حق مہر کی واپسی

O ایک شخص کا کسی عورت سے نکاح ہوا، ایک لاکھ روپیہ حق مہر غیر معجل طے پایا، اس کے علاوہ نکاح فارم پر یہ شرط لکھی گئی کہ پانچ تولے طلائی زیور، عورت کی ملکیت ہوگا، شادی کے کچھ عرصہ بعد عورت نے تنسیخ نکاح کی درخواست دائر کر دی، پھر تنسیخ نکاح کا فیصلہ ہو گیا، اب کیا خاوند حق مہر کی عدم ادائیگی اور زیورات کی واپسی کا حق رکھتا ہے، قرآن و حدیث کے مطابق فتویٰ درکار ہے؟
P ہمارے رجحان کے مطابق حق مہر کی ادائیگی موقع پر ہو جانا چاہیے، کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’تم عورتوں کا حق مہر خوشی خوشی ادا کر دو۔‘‘ (النساء: ۴)
نکاح فارم پر حق مہر کے متعلق معجل اور غیر معجل کی تقسیم ایک چور دروازہ ہے، ہم اسے صحیح نہیں سمجھتے، بعض لوگ حکومت کی طرف سے حق مہر کی رقم پر ناجائز عائد کردہ ٹیکس سے بچنے کیلئے ایسا کرتے ہیں کہ معمولی حق مہر عند الطلب یا غیر معجل رکھ لیتے ہیں اور طلائی زیورات، عورت کی ملکیت کر دیتے ہیں بطور خلع تنسیخ نکاح کی صورت میں بیوی کو حق مہر سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔
صورت مسئولہ میں حق مہر مبلغ ایک لاکھ روپیہ غیر معجل ہے جو ادا نہیں کیا گیا، خلع کی صورت میں اس کی ادائیگی خاوند سے ساقط ہو جائے گی۔ البتہ جو زیورات اس کی ملکیت کر دئیے گئے ہیں، وہ اسے واپس نہیں ملیں گے، کیونکہ وہ خود ہی ان طلائی زیورات کو اس کی ملکیت کر چکا ہے۔ (واللہ اعلم)

No comments:

Post a Comment

Pages