کیا رسول اللہ ﷺ کا جنازہ پڑھا گیا؟ F10-04-01 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Thursday, January 30, 2020

کیا رسول اللہ ﷺ کا جنازہ پڑھا گیا؟ F10-04-01


کیا رسول اللہ ﷺ کا جنازہ پڑھا گیا؟

O رسول اللہe کے جنازہ کے متعلق وضاحت فرمائیں کہ کس نے پڑھا تھا؟ ہمارے ہاں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپe کا جنازہ نہیں پڑھا گیا تھا۔
P انسان خطا کار اور گنہگار ہے، اس عالم رنگ و بو میں آنے کے بعد کسی قسم کے گناہوں سے اپنے دامن کو آلودہ کرتا ہے، کچھ سعادت مند توبہ کر کے اپنے دامن کو صاف کر لیتے ہیں، لیکن بہت سے لوگوں کو اس کی سعادت نصیب نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں ان کی نماز جنازہ غنیمت ہوتی ہے کہ اگر چالیس موحد آدمی اس کا جنازہ پڑھ لیں اور اللہ تعالیٰ سے اس کے گناہوں سے معافی کی سفارش کر دیں تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے گا۔ بشرطیکہ شرک کا ارتکاب نہ کیا ہو، رسول اللہe گناہوں سے پاک تھے۔ اللہ تعالیٰ نے لغزشوں سے درگزر کا مژدہ دنیا میں ہی آپ کو سنا دیا تھا، مزید یہ کہ آپe شب و روز اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے تھے، اس لئے آپe کے جنازہ کی ضرورت نہ محسوس کی گئی اور نہ ہی معمول کا جنازہ پڑھا گیا، آپe کو غسل اور کفن دینے کے بعد سیدہ عائشہr کے حجرہ میں رکھ دیا گیا، وہاں محدود تعداد میں صحابہ کرام] جاتے اور درود پڑھ کر واپس آ جاتے، یہی آپe کا جنازہ تھا، چنانچہ حضرت ابن عباسw سے مروی ایک حدیث میں ہے:
’’منگل کے دن جب رسول اللہe کی تجہیز و تکفین سے فراغت ہوئی تو آپe کے جسد اطہر کو آپ کے حجرہ مبارک میں آپ کی چارپائی پر رکھ دیا گیا پھر لوگ گروہ در گروہ اندر جاتے تھے اور آپe پر درود پڑھتے تھے، جب مرد حضرات فارغ ہو گئے تو خواتین کو داخل ہونے کی اجازت دی گئی، جب ان سے فراغت ہوئی تو بچوں کو اندر جانے کی اجازت دی گئی، رسول اللہe کی نماز جنازہ کے لئے کسی نے لوگوں کی امامت نہیں کی۔‘‘ (مسند امام احمد ص ۲۹۲ ج ۱)
حدیث کے آخری الفاظ کہ آپe کی نماز جنازہ کیلئے کسی نے لوگوں کی امامت نہیں کی، ان سے یہ مفہوم بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اندر جانے والے خواتین و حضرات انفرادی طور پر نماز جنازہ پڑھ کر واپس آ جاتے، لیکن ہمارے رجحان کے مطابق اس کا معنی نماز جنازہ کے بجائے درود پڑھنا زیادہ موزوں اور قرین قیاس ہے، جنازہ نہ پڑھنے سے یہ بات اخذ کرنا کہ آپe کی وفات کے بعد صحابہ کرام] اقتدار کے چکر میں پڑ گئے اور آپe کی نماز جنازہ تک نہ پڑھی گئی، یہ بات سرے سے غلط ہے، آخر رسول اللہe کی تجہیز و تکفین اور تدفین بھی تو صحابہ کرام] کے ذریعے عمل میں آئی تھی۔
واضح رہے کہ مذکورہ روایت میں سند کے اعتبار سے کچھ سقم پایا جاتا ہے لیکن دیگر شواہد و متابعات کی وجہ سے اس سقم کی تلافی ہو جاتی ہے۔ (واللہ اعلم)

No comments:

Post a Comment

Pages