نا بالغ بچوں کی وراثت F10-03-04 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Thursday, January 30, 2020

نا بالغ بچوں کی وراثت F10-03-04


نا بالغ بچوں کی وراثت

O میرے بھائی فوت ہوئے تو انہوں نے اپنے بچوں کیلئے کچھ مال چھوڑا ہے جو میرے پاس محفوظ ہے، بچے ابھی نابالغ ہیں، کیا اس مال سے زکوٰۃ دینا ضروری ہے؟
P کچھ اہل علم کا موقف ہے کہ نابالغ بچے کے مال میں زکوٰۃ فرض نہیں ہے کیونکہ بلوغ سے قبل وہ شرعی احکام کا پابند نہیں ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے:
’’تین آدمیوں کا گناہ نہیں لکھا جاتا، سونے والے کا تا آنکہ وہ بیدار ہو جائے، بچے کا جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے اور پاگل کا حتیٰ کہ اسے افاقہ ہو جائے۔‘‘ (مسند امام احمد ص ۱۱۴ ج ۶)
ان حضرات کا کہنا ہے کہ نابالغ کے مال سے زکوٰۃ نہیں دی جائے گی۔ لیکن ہمارے رجحان کے مطابق نابالغ کے مال میں بھی زکوٰۃ فرض ہے کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے وہ کسی کے نابالغ کی بناء پر ساقط نہیں ہوتا، چونکہ غرباء اور مساکین کو فائدہ پہنچانا ہے لہٰذا مال کسی کا بھی ہو اس سے ان کا حق نکالنا ضروری ہے، ایک مشہور حدیث میں ہے کہ ان کے دولتمندوں سے زکوٰۃ لی جائے۔ یہ الفاظ عام ہیں، ان میں بالغ یا نابالغ کی کوئی تخصیص نہیں ہے اس لئے بچوں کے مال سے زکوٰۃ دینا ہو گی بشرطیکہ وہ نصاب کو پہنچ جائے اور اس زکوٰۃ کی ادائیگی بچوں کے سرپرست کی ذمہ داری ہے۔ (واللہ اعلم)


No comments:

Post a Comment

Pages