نماز جنازہ میں قراءت F10-03-03 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Thursday, January 30, 2020

نماز جنازہ میں قراءت F10-03-03


نماز جنازہ میں قراءت

Oنماز جنازہ بآواز بلند پڑھنا چاہیے یا آہستہ بھی پڑھا جا سکتا ہے، قرآن و حدیث میں اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ وضاحت سے جواب دیں۔
Pجنازہ میں تین چیزیں ہوتی ہیں۔ قرأت، درود شریف اور میت کیلئے دعائیں وغیرہ۔ جنازہ میں قراءت آہستہ اور بآواز بلند دونوں طرح ثابت ہے، چنانچہ حضرت ابوامامہt سے روایت ہے کہ انہیں رسول اللہe کے صحابہ کرام] میں سے کسی نے بتایا: ’’نماز جنازہ میں سخت طریقہ یہ ہے کہ امام تکبیر کہے پھر پہلی تکبیر کے بعد آہستہ سورۂ فاتحہ پڑھے پھر درود پڑھے اور میت کے لئے خلوص کے ساتھ دعائیں کرے۔‘‘ (مستدرک حاکم ص ۳۶۰ ج ۱)
اسی طرح جہری قراءت کے متعلق احادیث میں ہے، حضرت ابن عباسw نے نماز جنازہ پڑھائی تو فاتحہ پڑھی پھر فرمایا کہ ’’میں نے یہ اس لئے پڑھی ہے تا کہ تمہیں اس کے سنت ہونے کا علم ہو جائے۔‘‘ (صحیح بخاری، الجنائز: ۱۳۳۵)
ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے فاتحہ اور کوئی اور سورت پڑھی اور بآواز بلند قراءت کی پھر جب فارغ ہوئے تو فرمایا کہ ’’یہ سنت اور حق ہے۔‘‘ (نسائی، الجنائز: ۱۹۷۸)
اسی طرح دعائیں بآواز بلند پڑھنے کی یہ دلیل ہے کہ حضرت عوف بن مالکt فرماتے ہیں کہ رسول اللہe نے نماز جنازہ پڑھائی تو ہم نے آپ کی پڑھی ہوئی دعا یاد کر لی۔ (صحیح مسلم، الجنائز: ۹۶۳)
ظاہر ہے کہ یہ دعائیں اونچی آواز سے پڑھی گئی تھیں، تبھی تو صحابی نے اسے یاد کر لیا۔ بہرحال نماز جنازہ سری اور جہری دونوں طرح ثابت ہے۔ (واللہ اعلم)


No comments:

Post a Comment

Pages