متوفی کو کیسا کفن دیں F10-03-02 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Thursday, January 30, 2020

متوفی کو کیسا کفن دیں F10-03-02


متوفی کو کیسا کفن دیں

O کفن کس قسم کا ہونا چاہیے، کیا میت کے ترکہ سے کفن دیا جا سکتا ہے، قرآن و حدیث کے مطابق اس مسئلہ کی وضاحت کریں؟
P کفن کے متعلق رسول اللہe نے ہدایت فرمائی ہے کہ وہ اچھا ہو، چنانچہ حضرت جابرt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اسے عمدہ کفن دینا چاہیے۔ (مسلم، الجنائز: ۹۴۳)
عمدہ اور اچھا کفن دینے سے مراد یہ ہے کہ کفن کا کپڑا صاف ستھرا، عمدہ اور اس قدر ہو کہ میت کے جسم کو اچھی طرح ڈھانپ سکے، اس سے یہ ہر گز مراد نہیں ہے کہ وہ بہت زیادہ قیمتی ہو۔ چنانچہ حضرت علیt سے مروی ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’بہت قیمتی کفن نہ دیا کرو کیونکہ یہ تو بہت جلد بوسیدہ ہو جاتا ہے۔‘‘ (ابوداؤد، الجنائز: ۳۱۵۴)
یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے لیکن اس کے باوجود زیادہ قیمتی کفن پہنانا جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں مال کا ضیاع ہے جس کی صحیح احادیث میں ممانعت ہے۔
حضرت ابوبکرt نے اپنے ایک کپڑے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’اسے دھو لینا اور اس کے ساتھ دو اور چادریں ملا کر مجھے کفن دینا۔‘‘ حضرت عائشہr نے فرمایا: ’’یہ تو پرانا ہے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا کہ ’’زندہ آدمی نئے کپڑے کا مردہ سے زیادہ حقدار ہے۔‘‘ (صحیح بخاری، الجنائز: ۱۳۸۷)
کفن کا انتظام میت کے ترکہ سے کرنا چاہیے خواہ وہ اسی قدر ہو جس سے صرف کفن کا بندوبست ہو سکتا ہو۔ چنانچہ حضرت خباب بن ارتt بیان کرتے ہیں کہ حضرت مصعب بن عمیرt احد کے دن شہید کر دئیے گئے، انہوں نے اپنے ترکہ میں صرف ایک چادر چھوڑی، اگر ہم ان کا سر ڈھانپتے تو پاؤں کھل جاتے اور اگر پاؤں ڈھانپتے تو ان کا سر ننگا ہو جاتا، آخر کار رسول اللہe نے ہمیں ان کا سر ڈھانپنے کا حکم دیا اور ان کے قدموں پر کچھ گھاس ڈال دینے کا فرمایا۔ (صحیح بخاری، الجنائز: ۱۲۷۶)
بہرحال میت کو اس ترکہ سے ہی کفن دینا چاہیے ہاں اگر کوئی از خود کفن تیار کر کے میت کو پہنا دیتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں، نیز بہتر ہے کہ تین سفید چادروں میں کفن دیا جائے، جیسا کہ حضرت عائشہr کا بیان ہے کہ رسول اللہe کو سہولیہ کے بنے ہوئے سفید رنگ کے تین سوتی کپڑوں میں کفن دیا گیا جن میں قمیص اور پگڑی نہیں تھی۔ (صحیح بخاری، الجنائز: ۱۲۶۴)


No comments:

Post a Comment

Pages