مروجہ سینہ کوبی (ماتم) F10-01-03 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Thursday, January 30, 2020

مروجہ سینہ کوبی (ماتم) F10-01-03


مروجہ سینہ کوبی (ماتم)

O مروجہ سینہ کوبی کی شرعی حیثیت واضح کریں، کیا کسی بھی لحاظ سے اس کی اجازت ہے، کتاب و سنت کی روشنی میں جواب دیں؟
P اگر کوئی مصیبت آئے یا کوئی عزیز فوت ہو جائے تو ہمیں صبر کرنے کا حکم ہے، رونے دھونے اور گریباں چاک کرنے کی اجازت نہیں، جیسا کہ حضرت ابن مسعودt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’جو بھی مصیبت کے وقت اپنے چہرے کو پیٹے، اپنا گریبان چاک کرے اور دور جاہلیت کی باتیں بکے وہ ہم سے نہیں ہے۔‘‘ (صحیح بخاری، الجنائز: ۱۲۹۴)
حضرت ابوموسیٰ اشعریtکہتے ہیں کہ میں اس شخص سے بری ہوں جس سے رسول اللہe نے اعلان برأت کیا ہے، بلاشبہ رسول اللہe مصیبت کے وقت اونچی آواز نکالنے والی، پریشانی کے وقت اپنے بال منڈوانے والی اور آفت کے وقت اپنے کپڑے پھاڑنے والی سے بری ہیں۔ (صحیح مسلم، الایمان: ۱۰۴) حضرت ابو مالک اشعریt سے روایت ہے کہ نوحہ کرنے والی عورت اگر موت سے پہلے توبہ نہیں کرے گی تو قیامت کے دن اسے بایں حالت اٹھایا جائے گا کہ اس پر گندھک کا کرتا اور خارش کی قمیص ہو گی۔ (مسند امام احمد ص ۳۴۲ ج ۵) ان احادیث کی روشنی میں مروجہ سینہ کوبی کی قطعاً اجازت نہیں ہے، اگر کسی کو مصیبت سے دوچار ہونا پڑے تو وہ اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے صبر سے کام لے۔ شاید اللہ تعالیٰ مصیبت کی تلافی کر دے سینہ کوبی کرنے سے گناہ کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ (واللہ اعلم)

No comments:

Post a Comment

Pages