پیشہ ور بھکاریوں کو دی جانے والی خیرات F10-01-02 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Thursday, January 30, 2020

پیشہ ور بھکاریوں کو دی جانے والی خیرات F10-01-02


پیشہ ور بھکاریوں کو دی جانے والی خیرات!

O بسوں، ٹرینوں پر سفر کے دوران دیکھا جاتا ہے کہ جوان لڑکیاں بھیگ مانگتی ہیں، کچھ لوگ انہیں ضرورت مند خیال کر کے ان کے ساتھ تعاون کر دیتے ہیں، کیا ایسی پیشہ ور لڑکیوں کا تعاون کرنا چاہیے؟ (محمود احمد۔ لاہور)
P بھیک مانگنا اور اسے پیشہ بنا لینا انتہائی ناپسندیدہ کردار ہے، اس سلسلہ میں متعدد احادیث مروی ہیں، چنانچہ حضرت ابن عمرt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:
’’جو لوگ گداگری اور بھیک مانگنے کو پیشہ بنا لیتے ہیں وہ قیامت کے دن ایسی حالت میں آئیں گے کہ ان کے چہروں پر گوشت نہیں ہوگا۔‘‘ (صحیح بخاری، الزکوٰۃ: ۱۴۷۴)
حضرت ابوہریرہt روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا:
’’جو شخص اپنے مال کو بڑھانے کی غرض سے لوگوں کے سامنے دست سوال پھیلاتا ہے وہ اپنے لئے انگاروں کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں مانگتا، اب اس کی مرضی ہے کہ چاہے انہیں کم کرے یا زیادہ۔‘‘ (صحیح مسلم، الزکوٰۃ: ۱۰۴۱)
حضرت سمرۃ بن جندبt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’مانگنا ایک زخم ہے جس سے انسان اپنے چہرے کو زخمی کرتا ہے البتہ ایسا شخص جو کسی مجبوری کی وجہ سے سوال کرے یا سربراہ مملکت سے مانگے تو اس کیلئے چنداں حرج نہیں ہے۔ (ابودائود، الزکوٰۃ: ۱۶۳۹)
حضرت زبیر بن عوامt روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’اگر تم میں سے کوئی رسی لے کر لکڑیوں کا گٹھا جنگل سے اپنی پشت پر اٹھا کر لائے پھر اسے بازار میں فروخت کر دے، اس طرح اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مانگنے سے روک دے تو یہ اس کیلئے کہیں بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگتا پھرے، وہ اسے دیں یا نہ دیں۔ (صحیح بخاری، الزکوٰۃ: ۱۴۷۱)
ان احادیث سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گداگری کس قدر گھنائونا جرم ہے، پھر جوان لڑکیاں اس پیشہ کو جب اختیار کرتی ہیں تو پس پردہ بہت سے جرائم چھپے ہوتے ہیں، اس کی آڑ قحبہ گری کا راستہ ہموار کیا جاتا ہے، اس بناء پر ہم کہتے ہیں کہ بسوں اور ٹرینوں میں مانگنے والی بے پردہ لڑکیوں کے ساتھ ہر گز تعاون نہ کیا جائے، ان کے ساتھ تعاون کرنا گویا ظلم و زیادتی کے کاموں میں تعاون کرنا ہے جس سے قرآن نے ہمیں منع کیا ہے۔ (واللہ اعلم)


No comments:

Post a Comment

Pages