عاشوراء کی شرعی حیثیت F10-01-01 - احکام ومسائل

تازہ ترین

Thursday, January 30, 2020

عاشوراء کی شرعی حیثیت F10-01-01


عاشوراء کی شرعی حیثیت

Oشرعی طور پر عاشورہ ا محرم کی کیا حیثیت ہے، اس دن کھانے پینے کا خوب اہتمام کیا جاتا ہے پھر دودھ کی سبیلیں بھی لگائی جاتی ہیں، کیا ایسا کرنا جائز ہے، اس کے روزہ کی کیا فضیلت ہے اور یہ روزہ کس دن رکھنا چاہیے، کیا نویں یا دسویں محرم یا دونوں کا روزہ رکھنا ہوگا، وضاحت سے تحریر کریں؟ (عبدالکریم۔ ملتان)
Pمحرم کا مہینہ اللہ کے ہاں بڑی قدر و منزلت کا حامل ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے عزت و احترام والا مہینہ قرار دیا ہے، رسول اللہe اس دن کے روزے اور رمضان کے روزوں کو دوسرے ایام پر بڑی فضیلت دیتے تھے اور بڑے اہتمام کے ساتھ اس کا روزے رکھتے تھے۔ (صحیح بخاری، الصوم: ۲۰۰۶) لیکن ہم لوگوں نے اس دن کے حوالے سے بہت سی بدعات جاری کر لی ہیں اور اسے کھانے پینے کا دن سمجھ لیا ہے، اس دن بڑے اہتمام سے خصوصی کھانوں کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ میٹھے پانی اور دودھ کی سبیلیں لگائی جاتی ہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جشن بہاراں ہے جسے بڑے شوق سے منایا جاتا ہے، نامعلوم یہ حضرت حسینt کی شہادت کا غم ہے یا ان کی شہادت کا جشن ہے جسے بڑے زور و شور سے ہم مسلمان مناتے ہیں؟
زمانہ قدیم سے اس دن کی اہمیت مسلمہ ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دن حضرت موسیٰu اور ان کی قوم کو نجات دی اور فرعون اور اس کے لشکر کو پانی میں غرق کیا، حضرت موسیٰu اور قوم یہود اس آزادی کی خوشی میں روزہ رکھتے تھے پھر رسول اللہe نے بھی اس دن کا روزہ رکھا اور دوسرے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ بھی اس دن کا روزہ رکھیں، جیسا کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعریt سے روایت ہے کہ یہود، عاشوراء کے دن کو جشن کے طور پر مناتے تھے اور اس دن اپنی عورتوں کو خصوصی طور پر زیورات پہنا کر خوشی مناتے تھے، رسول اللہe نے فرمایا کہ تم اس دن کا روزہ رکھا کرو۔ (صحیح مسلم، الصیام: ۲۶۶۰)
رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے کہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزے ماہ محرم کے روزے ہیں کیونکہ ماہ محرم اللہ کا مہینہ ہے اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے یعنی تہجد کی نماز بہت فضیلت والی ہے۔ (مسند امام احمد ص ۳۴۴ ج ۲)
سیدہ ربیع بنت معوذt فرماتی ہیں کہ رسول اللہe نے مدینہ کے آس پاس رہنے والوں کو یہ حکم دیا کہ وہ یوم عاشوراء کا روزہ رکھیں چنانچہ ہم خود بھی روزہ رکھتیں اور اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتیں، جب بھوک کی وجہ سے بچے روتے تو ہم ان کے سامنے کھلوتے رکھ دیتیں تا کہ ان کے ساتھ دل بہلاتے رہیں۔ (صحیح مسلم، الصیام: ۲۶۶۹) بلکہ آپe نے اس کے متعلق باقاعدہ اعلان کرایا کہ جس شخص نے اس دن کا روزہ رکھا ہے وہ تو اپنا روزہ پورا کرے اور جس نے روزہ نہیں رکھا وہ بقیہ دن کچھ نہ کھائے پیئے۔ (صحیح مسلم، الصیام: ۲۶۶۹)
جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپe نے اسے اختیاری روزہ قرار دے دیا، چنانچہ حضرت عائشہr سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ دورِ جاہلیت میں قریش عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہe بھی اس دن کا روزہ رکھتے تھے پھر جب آپe نے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی تو بھی آپe اس دن کا روزہ رکھتے تھے اور صحابہ کرام] کو اس دن کا روزہ رکھنے کے متعلق حکم دیتے تھے، اس کے بعد جب رمضان کے روزے فرض ہوتے تو آپ نے اس کے متعلق اختیار دے دیا اور فرمایا: جس کا جی چاہے وہ اس دن کا روزہ رکھ لے اور جو چاہے وہ روزہ چھوڑ دے۔ (صحیح مسلم، الصیام: ۲۶۳۷)
احادیث میں اس دن روزہ رکھنے کی فضیلت بھی بیان ہوئی ہے۔ چنانچہ حضرت ابوقتادہt کہتے ہیں کہ رسول اللہe سے یوم عاشوراء کے روزے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپe نے فرمایا: ’’اس دن کا روزہ پچھلے ایک سال کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم، الصیام: ۲۷۴۷)
رسول اللہe کی عادت مبارکہ تھی کہ کسی کام کے متعلق اللہ کی طرف سے کوئی امر نہ دیا جاتا تو آپe اہل کتاب کی موافقت کو پسند کرتے تھے۔ (صحیح بخاری، اللباس: ۵۹۱۷)
پھر آپ کو اہل کتاب کی مخالفت کرنے کا حکم دیا چنانچہ آپe کو بتایا گیا کہ یہود و نصاریٰ بھی اس محرم کی تعظیم بجا لاتے ہیں تو آپe نے عاشوراء کے روزے کے متعلق بھی ان کی مخالفت کرنے کا عزم کر لیا چنانچہ حضرت ابن عباسw سے روایت ہے کہ جب آپe نے عاشوراء کا روزہ رکھا اور اپنے صحابہ کرام] کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا تو ان حضرات نے آپe کو بتایا کہ اس دن کی تو یہود و نصاریٰ بھی تعظیم کرتے ہیں، آپe نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے فرمایا کہ جب آئندہ سال آئے گا تو ان شاء اللہ ہم نو محرم کا روزہ بھی رکھیں گے، لیکن اگلا سال آنے سے پہلے ہی رسول اللہe وفات پا گئے۔ (صحیح مسلم، الصیام: ۲۶۶۶)
ایک روایت میں ہے کہ آپe نے فرمایا: اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نویں کا روزہ بھی رکھوں گا۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر ۲۶۶۷) اس حدیث سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کی مخالفت کرتے ہوئے دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کا روزہ بھی رکھا جائے کیونکہ اصل عاشوراء تو دسویں تاریخ کو ہے، اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ دسویں کے بجائے صرف نویں محرم کا روزہ رکھا جائے۔ اس سلسلہ میں حضرت ابن عباسt کے ایک عمل کا سہارا لیا جاتا ہے حالانکہ انہوں نے خود فرمایا ہے: ’’یہود کی مخالفت کرو، نویں اور دسویں محرم کا روزہ رکھو۔‘‘ (مصنف عبدالرزاق حدیث نمبر ۷۸۳۹) اس کے علاوہ ان سے ایک اور روایت مروی ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’تم یوم عاشوراء کا روزہ رکھو اور اس میں یہود کی مخالفت کرو۔ وہ اس طرح کہ اس سے ایک دن پہلے یا اس کے ایک دن بعد روزہ رکھو۔ (مسند امام احمد: ص ۲۴۱ ج ۱)
اس حدیث کے پیش نظر کچھ اہل علم کا موقف ہے کہ جو شخص نو محرم کا روزہ نہ رکھ سکے وہ دس محرم کا روزہ رکھنے کے بعد یہود و نصاریٰ کی مخالفت کرتے ہوئے گیارہ محرم کا روزہ رکھ لے۔ ہمارے رجحان کے مطابق دسویں محرم کا روزہ کسی صورت میں نہ ترک کیا جائے البتہ یہود و نصاریٰ کی مخالفت میں اس کے ساتھ نویں تاریخ کا روزہ رکھ لیا جائے، اگر کوئی نویں محرم کو روزہ نہیں رکھ سکا تو وہ دسویں محرم کے ساتھ گیارہ محرم کا روزہ رکھ لے۔ (واللہ اعلم)


No comments:

Post a Comment

Pages